بار[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - باری، نوبت، دانو۔  تمہاری بزم میں دیکھیں کب اپنی بار آئے جو اٹھ کے دو گئے پہلو سے اور چار آئے    ( ١٨٧٢ء، دیوان قلق، مظہر عشق، ١٩٢ ) ٢ - وقت۔  ہوا غم غلط آئی عشرت کی بار زہے فتح و فیروزی سازوار    ( ١٨٦٦ء، جادہ تسخیر، ٢٦٥ ) ٣ - عرصہ، دیر۔  مارے توں جلاوے بھی اختیار ہے ترے کام کرنے نہ کچ بار ہے      ( ١٧١٢ء، اسماعیل امروہوی، وفات نامہ بی بی فاطمہ (ق)، ١ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'وار' ہے اس سے ماخوذ اردو زبان میں اصلی معنی میں ہی 'بار' مستعمل ہے سب سے پہلے ١٥٢١ء میں "خالق باری" میں مستعمل ہے۔

جنس: مؤنث